واشنگٹن، 10/مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکہ کے ایک سینئر سیاست داں نے پاکستان سے اس کے علاقے کے اندر سرگرم بنیاد پرست طاقتوں پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد کو خبردار کیا کہ اگر ہندوستان کے فوجیوں اور اس کے شہریوں پر حملے ہوتے رہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ہاؤس ڈیموکریٹک کاکس کے چیئرمین جو کراو لے نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کی طرف سے حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کی وجہ سے گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان اور ہندوستان سرحد پر حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں،انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے ملک پر زیادہ دباؤ بنانے کی کوشش کی۔ایک سوال کے جواب میں ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ ان(پاکستان کی حمایت حاصل ہے، انہیں (ٹرمپ انتظامیہ)پاکستان پر ہندوستان -پاکستان سرحد پر کشیدگی پھیلانے والی لشکر طیبہ اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا دباؤ بنانے کے لیے اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ میرا ماننا ہے کہ یہاں اس بات پر زور ہے کہ انہیں (پاکستان کو)اپنے علاقے کے اندر سرگرم پر تشدد اور بنیاد پرست تنظیموں کی ناکامیوں کے لیے مزید کوشش کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ہندوستان کے شہریوں اور فوجیوں پر حملے ہوتے رہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ ان مسائل کو دونوں ممالک کو دوطرفہ طریقے سے حل کرنا چاہیے۔کرا ولے نے کہا، لیکن مجھے یقین ہے کہ ایک کردار ہے جو امریکہ ادا کر سکتا ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان اور پاکستان کا دوست ہونے کی وجہ سے امریکہ علاقے میں امن اور رابطوں کی راہ تلاش کرنے کے لیے دوست ممالک پر دباؤ بنا سکتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان پالیسی پر ہندوستان سے معلومات مانگے گی۔مانا جا رہا ہے کہ اسے حتمی شکل دیئے جانے کے لیے کام چل رہا ہے۔کراو لے نے کہاکہ میں یقینا یہ امید کرتا ہوں کہ صدر اور وزارت خارجہ حکومت ہند کی رائے کو ذہن میں رکھے گی۔ہندوستانی عوام اور حکومت نے مسلسل دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ضابطہ بنانے سے پہلے افغانی عوام اور ہندوستانی عوام کے درمیان تاریخی تعلقات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اصول کی ضرورت دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھتے ہوئے علاقے میں امن اور روابط کو بنانے رکھنے کے لیے ہے۔